انسان شاید اسی لمحے خواہش کرنا ہی چھوڑ دے
یقین کیجیے، اگر کبھی وہ دن آ گیا جب ہماری ہر خواہش اور ہر نازک کیفیت کا کوئی حتمی فارمولا دریافت ہو گیا، جب یہ راز کھل گیا کہ وہ کیوں جنم لیتی ہیں، کن قوانین کے تحت بڑھتی ہیں، اور آخر کس سمت بڑھتی ہیں، اور اگر یہ سب ایک سادہ ریاضیاتی مساوات میں قید ہو گیا، تو انسان شاید اسی لمحے خواہش کرنا ہی چھوڑ دے… بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ وہ ضرور چھوڑ دے گا۔
نوٹس فرام انڈرگراؤنڈ — دوستوفسکی
