Notes from underground - Doestovesky

ہم سب کے اندر ایک ایسا راز چھپا ہے جسے ہم خود بھی نہیں سمجھتے۔

“انسان… ایک عجیب اور پُراسرار مخلوق ہے—”

وہ تمہیں ٹھہر ٹھہر کر سمجھائے گا
کہ سچ کیا ہے، اور غلط کیا…
عقل کی روشنی میں دلیل دے گا،
اخلاق کی بلندیوں کا ذکر کرے گا،
اور فائدے کی راہوں کو تم پر واضح کرے گا۔

مگر پھر—
بس چند لمحوں کے اندر…

وہی انسان،
اپنی ہی کہی ہوئی ہر بات سے مُنہ موڑ لے گا۔

وہی عقل، جس کا وہ داعی تھا…
وہی سچ، جس پر وہ فخر کرتا تھا…
سب کچھ پیچھے چھوڑ کر
ایک ان دیکھے راستے پر چل پڑے گا۔

نہ کوئی جبر، نہ کوئی بیرونی طوفان…
بس اس کے اندر

ایک خاموش…
مگر بے حد طاقتور طغیانی اُبھرتی ہے—

جو ہر دلیل، ہر اصول کو بہا لے جاتی ہے۔

تو پھر سچ کیا ہے؟

کیا انسان واقعی عقل کا اسیر ہے؟
یا اس کے اندر کوئی ایسی تاریکی ہے،
جو ہر روشنی کو نگل لیتی ہے؟

سوچو…
کہیں ہم خود بھی
اپنی ہی حقیقت سے ناواقف تو نہیں؟

ماخوذ از: “Notes from Underground” — Fyodor Dostoevsky

Similar Posts